پنجاب کا 2025-26 کا 5335 ارب روپے کا تاریخی بجٹ پیش، ترقیاتی فنڈ میں ریکارڈ اضافہ

لاہور: — وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے مالی سال 2025-26 کے لیے 5335 ارب روپے کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا، جو صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ بجٹ پیشی سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کابینہ کے 27ویں اجلاس میں بجٹ کی منظوری دی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھا کہ “یہ زیرو ٹیکس اور سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ ہے، ہر پائی عوام کی امانت ہے اور ہمیں اللہ کے حضور جوابدہ ہونا ہے۔” انہوں نے اس بجٹ کو شفاف، عوام دوست اور ترقی کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ “الحمدللہ، ترقیاتی فنڈ بڑا ہونے کے باوجود کوئی مالیاتی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔”

اہم نکات:
ترقیاتی پروگرام میں 47 فیصد اضافہ

740 ارب روپے سرپلس بجٹ

ہیلتھ اور ایجوکیشن میں ریکارڈ فنڈنگ

94 نئے عوامی فلاحی پروگرامز کا آغاز

12 ہزار کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و توسیع جاری

40 ہزار نئے گھروں کی تعمیر کا ہدف

ڈومیسٹک بجٹ ختم، سود کی ادائیگیوں میں 30% کمی

مریم نواز نے کہا کہ صوبے بھر میں صفائی، تعلیم، صحت، رہائش اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر بھرپور کام جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “ٹیکس بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ میں وسعت پر توجہ دی جائے گی تاکہ عوام پر براہ راست بوجھ نہ پڑے۔”

سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومتی اخراجات میں محض 3 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.5 فیصد زیادہ سرپلس بجٹ رکھا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا: “یہ بجٹ صرف نمبرز کا کھیل نہیں، بلکہ عوامی خدمت کا عزم ہے۔ ہم وقت کم اور کام زیادہ سمجھتے ہیں، اور اسی جذبے کے تحت ڈیلیوری ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔”

پنجاب حکومت کا یہ بجٹ صوبے میں معاشی استحکام، روزگار، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور طرز حکمرانی میں بہتری کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں